ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مصر: آپریشن کے دوران سیلفی لینے والا ڈاکٹر معطل

مصر: آپریشن کے دوران سیلفی لینے والا ڈاکٹر معطل

Thu, 01 Dec 2016 11:41:23    S.O. News Service

قاہرہ،30؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مصر میں ایک مرد گائناکالوجسٹ کی جانب سے خاتون کے سیزیریئن آپریشن کے دوران اپنے ساتھیوں سمیت لی گئی سیلفی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ یہ افسوس ناک واقعہ شمالی صوبے البحیرہ میں ایتای البارود ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں پیش آیا۔ مذکورہ سیلفی کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘پر پوسٹ کر دیا گیا جب کہ تصویر میں پس منظر میں خاتون مریضہ کی ستر بھی ظاہر ہو رہی ہے۔مذکورہ تصویر کے پوسٹ کیے جانے پر ڈاکٹر کے فیس بک پیج پر لوگوں کی جانب سے شدید تنقیدی رد عمل سامنے آیا جس پر آدھے گھنٹے کے بعد تصویر کو حذف کر دیا گیا۔البحیرہ صوبے میں وزارت صحت کے سکریٹری ڈاکٹر علاء عثمان نے سیلفی پوسٹ کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جب کہ انتظامی استغاثہ نے بھی سرزنش کے اقدامات سے قبل ڈاکٹر کو طلب کر لیا ہے۔واقعے کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبداللطیف عاشور نے آپریشن تھیٹر میں سیلفی لینے اور مریض کی حرمت پامال کرنے کی وجہ بتانے سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اجازت لینے کے بعد آپریشن کے دوران مریض کی تصویر لینا قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کسی قسم کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوتی ہے بشرط یہ کہ تصاویر میں مریض کا چہرہ نظر نہ آئے۔ عبداللطیف نے باور کرایا کہ وہ ایک بڑے ڈاکٹر ہیں اور ان کی اپنی ایک ساکھ ہے لہذا انہوں نے پہلے مریضہ سے اجازت لی تھی تاہم انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ پس منظر میں کیا ظاہر ہو رہا ہے۔

ادھر ایتای البارود ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار المنشاوی نے بتایا کہ سیلفی لینے والے ڈاکٹر کے خلاف فوری اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر کو کام سے روک دیا گیا ہے ، اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ 3ماہ تک اسے آپریشن تھیٹر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جب کہ اسی طرح واقعے میں شریک ساتھی ڈاکٹروں کو بھی کام سے روک دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کے مطابق ڈاکٹر عبداللطیف ایک صاحب اخلاق ، قابل اور اچھی شہرت کے حامل ڈاکٹر ہیں۔ تصویر میں جو کچھ ظاہر ہوا اس کو جاننے کے بعد ڈاکٹر نے فوری طور پر تصویر کو حذف کر کے معذرت پیش کی۔ تاہم پھر بھی سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے تبصروں میں بہت زیادہ شدت پسندی کا اظہار کیا گیا۔انتظامی استغاثہ کے ترجمان احمد رزق کے مطابق استغاثہ کی ایک ٹیم نے ہسپتال پہنچ کر واقعے میں شریک افراد اور نرنسنگ اسٹاف سے پوچھ گچھ کی۔ اس کے علاوہ تصویر میں نظر آنے والے 4 دیگر افراد کو بھی بیانات دینے کے لیے بلایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


Share: